روایت ھے کہ سات سو برس پہلے اصفہان میں ایک مسجد بن رھی تھی۔
کام تقریباً ختم ھو چکا تھا اور کاریگر چھوٹے چھوٹے آخری کام کر رھے تھے۔
ایک بوڑھی عورت کا وھاں سے گزر ھوا۔
وہ اچانک کھڑی ھو گئی اور مسجد کے مینار کی جانب اشارہ کر کے کہنے لگی کہ یہ میری نظر میں ٹیڑھا نظر آ رھا ھے۔
کاریگر ھنسنے لگے تو بڑے مستری نے کہا: "خاموش! جلدی سے ایک لمبی اور مضبوط لکڑی لاؤ اور چند مزدور اکھٹے کرو!"
جب کچھ مزدور لکڑی لے آئے تو مستری نے کہا کہ اب اس کو مینار کے ساتھ لگاؤ اور دھکا دو۔
اور سارا وقت مستری اُس ضعیف خاتون سے پوچھ رھے تھے کہ اب مینار سیدھا ھوا کہ نہیں؟
چند منٹ بعد وہ بوڑھی بولی کہ اب سیدھا ھو گیا ھے منار اور دعا دے کر چل پڑی۔
مزدوروں نے مستری سے پوچھا کہ کیا لکڑی کی مدد سے ٹیڑھے مینار کو سیدھا کیا جا سکتا ھے؟
مستری نے جواب دیا: "نہیں، لیکن ایسا کر کے غلط افواہ کا راستہ ضرور روکا جا سکتا ھے۔
اگر یہ بڑھیا چلی جاتی اور غلطی سے کچھ لوگوں کہ کہہ دیتی کہ مینار ٹیڑھا بنا ھے اور یہ افواہ پھیل جاتی تو پھر لوگوں کی نظر میں یہ مینار ھمیشہ ٹیڑھا ھی رھتا۔
لیکن میں نے ایک لکڑی اور کچھ دھکوں کی مدد سے اِس مینار کو ھمیشہ کے لئے سیدھا کر لیا ھے۔"
افواہ سے ڈریں۔
اگر بروقت کسی طریقے سے اِس کا سدِّباب کر لیں تو آپ کی زندگی کا مینار ھمیشہ سیدھا رھے گا۔
pati
Sunday, March 4, 2018
غلط افواہ نہ پھیلائیں
By
MAJID HUSSAIN
0 comments:
اگر ممکن ہے تو اپنا تبصرہ تحریر کریں
اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔