pati

بلاگ ابھی تیاری کے مراحل میں ہے .بلاگ پر تشریف لانے کا شکریہ ،

Tuesday, March 3, 2020

افغانستان کی معلومات

بہت ہی اہم معلومات 
ایشیا کا غریب ترین ملک کونسا ہے؟
جواب افغانستان 
سوال افغانستان کا مکمل نام کیا ہے؟
جواب اسلامی جمہوریہ افغانستان 
سوال افغانستان کا بارڈر کتنے ممالک کے ساتھ ملتا ہے؟
جواب چھ ممالک کے ساتھ 
سوال  افغانستان کا کل رقبہ کتنا ہے؟
جواب 652000 مربع کلو میٹر 
سوال افغانستان کے دارالحکومت کا کیا نام ہے؟
جواب کابل
سوال افغانستان کی سرکاری زبان کونسی ہے؟
جواب پشتو 
سوال افغانستان میں کتنے فیصد پشتون آباد ہیں؟
جواب 42 فیصد 
سوال افغانستان میں کتنے فیصد تاجک آباد ہیں؟
جواب 33 فیصد (اس کے علاوہ دس فیصد ازبک نو فیصد ہزارہ اور چار فیصد دوسرے قبائل بھی آباد ہیں )
سوال افغانستان میں کس مذہب کے لوگ ہیں؟
جواب 99.5 فیصد مسلمان جبکہ 0.5 فیصد دوسرے مذاہب 
سوال افغانستان کے موجودہ صدر کا کیا نام ہے؟
جواب اشرف غنی 
سوال افغانستان کے موجودہ چیف ایگزیکٹو آفیسر کون ہیں؟
جواب عبداللہ عبداللہ 
سوال افغانستان کی آبادی کتنی ہے؟
جواب قریب تین کروڑ پچیس لاکھ 
سوال افغانستان کی آبادی اور رقبے کا کیا پوزیشن ہے؟ 
جواب افغانستان رقبے کے لحاظ سے دنیا کا چالیسواں اور آبادی کے  لحاظ سےچوالیسواں بڑا ملک ہے 
سوال کیا افغانستان ایک لینڈلاکڈ ملک ہے؟
جواب جی ہاں 
سوال افغانستان کے کرنسی کا نام بتائیں ؟
جواب افغانی 
سوال افغانستان کا ڈائلنگ کوڈ کونسا ہے؟
جواب +93 
سوال کیا افغانستان اقوام متحدہ کا رکن ہے؟
جواب جی ہاں
مکمل تحریر اور تبصرے>>

Thursday, February 27, 2020

کرونا وائرس سے بچنے کے لئے مسنون دعائیں

*کرونا وائرس سے بچنے کے لئے مندرجہ ذیل دعائیں کرتے رہیں* :
نمبر١ :
صبح شام تين تين مرتبہ یہ پڑھیں، کوئی چیز نقصان نہیں پہنچا سکے گی.
*« ﺑﺴﻢ اﻟﻠﻪ اﻟﺬﻱ ﻻ ﻳﻀﺮ ﻣﻊ اﺳﻤﻪ ﺷﻲء ﻓﻲ اﻷﺭﺽ ﻭﻻ ﻓﻲ اﻟﺴﻤﺎء، ﻭﻫﻮ اﻟﺴﻤﻴﻊ اﻟﻌﻠﻴﻢ»*
[ سنن الترمذی : 3388] صحيح.
نمبر٢ :
*«اﻟﻠﻬﻢ ﺇﻧﻲ ﺃﻋﻮﺫ ﺑﻚ ﻣﻦ اﻟﺒﺮﺹ، ﻭاﻟﺠﻨﻮﻥ، ﻭاﻟﺠﺬاﻡ، ﻭﻣﻦ ﺳﻴﺊ اﻷﺳﻘﺎﻡ»*
[ ابو داود : 1554] ﺻﺤﻴﺢ.
نمبر٣:
جب مرض (وائرس) والے کو دیکھو تو یہ دعا پڑھیں.
*«اﻟﺤﻤﺪ ﻟﻠﻪ اﻟﺬﻱ ﻋﺎﻓﺎﻧﻲ ﻣﻤﺎ اﺑﺘﻼﻙ ﺑﻪ، ﻭﻓﻀﻠﻨﻲ ﻋﻠﻰ ﻛﺜﻴﺮ ﻣﻤﻦ ﺧﻠﻖ ﺗﻔﻀﻴﻼ»*
[ سنن ترمذی : 3431] حسن.
*اللہ کریم ہمیں ہر طرح کے عذاب سے محفوظ فرمائے اور دین اسلام پر عمل پیرا ہونے کی توفیق عطا فرمائے.*
آمین ثم آمین.

مکمل تحریر اور تبصرے>>

Tuesday, February 25, 2020

اَسْمَآءُالْحُسْنٰى اور ان کے فوائد

 اَسْمَآءُالْحُسْنٰى اورانکےفضائل 

(ہر وِرْد کے اول و آخر ایک بار درود شریف پڑھ لیجیے۔)

*1- یَارَحْمٰنُ:*
جو کوئی صبح کی نماز کے بعد 298 بار پڑھے گا خداعزوجل اس پر بہت رحم کریگا۔

*2- یَارَحِيْمُ:*
جو کوئی ہر روز 500 بار پڑھے گا دولت پائے گا اور مخلوق اس پر مہربان اور شفیق ہوگی۔

*3- یَاْمَلِكُ:*
90 بار جو غریب روزانہ پڑھے تو غربت سے نجات پائیگا۔

*4ْ۔ یَاقُدُّوسُ:*
جو سفر کے دوران ورد کرتا رہے تو تھکن سے محفوظ رہیگا۔

*5- یَاسَلَامُ:*
111 بار پڑھکر بیمار پر دم کرنے سے شفا حاصل ہوگی۔

*6- یَامُؤْمِنُ:*
جو بیمار 115 بار پڑھکر اپنے اوپر دم کرے تو تندرستی پائیگا۔

*7- یَامُهَيْمِنُ:*
29 بار روزانہ پڑھنے والا ہر آفت و بلا سے محفوظ رہیگا۔

*8- یَاعَزِيزُ:*
حاکم یا افسر کے پاس جانے سے قبل 41 بار پڑھ لیجیے وہ مہربان ہو جائیں گے۔

*9- یَاجَبَّارُ:*
اس کا مسلسل ورد رکھنے والا غیبت سے بچا رہیگاـ

*10ْـ یَامُتَكَبِّرُ:*
١ـ سونے سے پہلے 21 بار پڑھنے سے ڈراؤنے خواب نہیں آئیں گے۔
٢ـ زوجہ سے ملاپ سے پہلے 10 بار پڑھ لینے سے نیک بیٹے کا باپ بنے گا۔

*11- یَاخَالِقُ:*
جو 300 بار پڑھیگا تو اسکا دشمن مغلوب ہوگا۔

*12ْـ یَابَارِئُ:*
ہر جمعہ کو 10 بار پڑھنے والے کو بیٹا عطا ہوگاـ

*13ْـ یَامُصَوِّر:ُ*
جو بانجھ عورت 7 روزے رکھے اور افطار کیوقت 21 بار اَلْمُصَوِّرُ پڑھکر پانی پر دم کرکے پی لیا کرے اسکو نیک بیٹا عطا ہوگاـ

*14- یَاغَفَّار:*
اسکو ہمیشہ پڑھنے والا نفس کی بری خواہشات سے چھٹکارا پائیگا۔

*ُ15- یَاقَهَّار:ُ*
100 بار مصیبت آ پڑنے پر پڑھنے سے مشکل آسان ہوگی۔

*16- یَاوَهَّابُ:*
7 بار روزانہ پڑھنے سے ہر دعا مقبول ہوا کریگی۔

*17َّ۔ یَارَزَّاقُ:*
جو فجر کے فرض و سنت کے درمیان 41 دن تک 550 بار پڑھے گا تو دولتمند ہوگا۔

*18- یَافَتَّاحُ:*
کسی بھی وقت دن میں روزانہ 7 بار پڑھنے سے دل روشن ہوگا۔

*19- یَاعَلِيمُ:*
اسکو بکثرت پڑھنے سے دین و دنیا کی معرفت عطا ہوگی۔

*20- یَاقَابِضُ:*
30 بار جو روزانہ پڑھیگا دشمن پر فتح پائیگا۔

*21- یَابَاسِطُ:*
40 بار پڑھنے والا مخلوق سے بے پرواہ ہوگا۔

*22ْ۔ یَاخَافِضُ:*
جو اس کو 500 بار پڑھ لے گا دشمن سے اَمان میں رہیگا۔

*23- یَارَافِعُ:*
روزانہ 20 بار پڑھنے والے کی مراد پوری ہوگی۔

*24- یَامُعِزُّ:*
جو شبِ جمعہ (جمعہ اورجمعرات کی درمیانی رات) نمازِ عشاء کے بعد 140 بار پڑھیگا، مخلوق کی نظر میں اسکی عزت وحرمت اور ہیبت بڑھیگی۔

*25- یَامُذِلُّ:*
جو کوئی 75 بار پڑھکر سجدہ کرے اور کہے "یاالہٰی عزوجل فلاں ظالم کے شر سے مجھے محفوظ رکھ" تو اللہ عزوجل اسے امان دیگا اور اپنی حفاظت میں رکھیگا۔
(فلاں کی جگہ ظالم کانام لیاجائے)

*26- یَاسَمِيْعُ:*
جو 100 بار روزانہ پڑھکر دعا مانگے گا تو دعا قبول ہوگی لیکن پڑھنے کے دوران گفتگو نہ کرے۔

*27- یَابَصِيرُ:*
عصر کے ابتدائی وقت سے لیکر غروبِ آفتاب تک جو روزانہ 7 بار پڑھیگا تو اچانک موت سے محفوظ رہیگا۔

*28- یَاحَكَمُ:*
ہر نماز کے بعد 80 بار پڑھنے والا کسی کا محتاج نہ ہوگا۔

*29- یَاعَدْلُ:* 
جو نمازِمغرب کے بعد ہزار بار پڑھیگا آسمانی بلاؤں سے نجات پائیگا۔

*30- یَالطِيفُ:*
جو روزانہ تَحِیَّةُ الْوُضُو کے بعد 100 بار پڑھیگا تو بیماریوں سے صحت ملیگی، مشکلات سے نَجات ملیگی اور بیٹیوں کےنصیب کھلیں گے۔
*نوٹ:* وضو کے فورا بعد اعضاء خشک ہونے سے پہلے جو دو نوافل ادا کیے جائیں انکو تحیةالوضو کہتےہیں۔

*31- یَاخَبِيرُ:*
نفسِ امارہ (برائی کاحکم دینے والا نفس) کے ہاتھوں گرفتار شخص اس کا وظیفہ کرے تو نجات پائیگا۔

*32- یَاحَلِيمُ:*
اسکو کاغذ پر لکھ کر دھو کر کھیتی پر چھڑکنے سے زراعت ہر آفت سے محفوظ رہیگی۔

*33- یَاعَظِيمُ:*
7 بار پانی پر پڑھکر دم کر کے پینے سے پیٹ درد سے حفاظت ہوگی۔

*34- یَاغَفُورُ:*
جسے سردرد ہو یا بیماری ہو یا غم پیش ہو 3 بار یاغفور کی مقطعات لکھ کر کھانے سے شفاء ہوگی۔
*نوٹ:* اسم پاک کو کاغذ پر لکھ کر اسکی گیلی سیاہی پر روٹی کا ٹکڑا لگائیں یہاں تک وہ نقش روٹی میں جذب کر لے اسکو مقطعات کہتے ہیں۔

*35- یَاشَکُوْرُ:*
5 ہزار بار روزانہ پڑھنے والا قیامت میں بلند مرتبہ پائیگا۔

*36- یَاعَلِيُّ:*
3 بار پڑھکر سوجن پر دم کرنے سے شفا ہوگی۔

*37- یَاكَبِيرُ:*
9 بار پڑھکر بیمار پر دم کرنے سے شفا ہوگی۔

*38- یَاحَفِيْظُ:*
جو روزانہ 16 بار پڑھیگا ہر طرح سے بہادر رہیگاـ

*39- یَامُقِيْتُ:*
جسکی آنکھ سرخ ہو اور درد کرے تو 10 بار پڑھکر دم کرنے سے شفا ہوگی۔

*40- یَاحَسِيْبُ:*
روزانہ 70 بار پڑھنے والا ہر آفت سے محفوظ رہیگا۔

*ُ41- یَاجَلِيلُ:*
10 بار پڑھکر مال و اسباب اور رقم وغیرہ دم کرنے سے چوری سےحفاظت ہوگی۔

*42- یَاكَرِيمُ:*
بستر پر پڑھتے پڑھتے سو جانے سے فرشتے دعا کرتے ہیں۔

*43- یَارَقِيْبُ:*
پھوڑے پھنسی پر 3 بار پڑھکر پھونک مارنے سے شفا ہوگی۔

*44- یَامُجِيْبُ:*
3 بار پڑھکر دم کرنے سے سر درد دور ہوگا۔

*45- یَاوَاسِعُ:*
بچھو کاٹ لے تو 70 بار پڑھکر دم کرنے سے زہر اثر نہ کریگا۔

*46- یَاحَكِيْمُ:*
ہر نماز کے بعد 80 بار پڑھنے والا کسی کا محتاج نہ ہوگا۔

*47- یَاوَدُوْدُ:*
ایک ہزار بار پڑھکر کسی کھانے پر دم کر کے کھلانے سے دشمنی ختم ہوگی۔

*48- یَامَجِيْدُ:*
گرمیوں میں پڑھنے سے پیاس سے حفاظت ہوگی۔

*49- یَابَاعِثُ:*
جو سات بار پڑھکر اپنے اوپر پھونک کر حاکم و افسر کے پاس جائے تو حاکم و افسر مہربان ہوگا۔

*50- یَاشَهِيْدُ:*
صبح سورج نکلنے سے پہلے نافرمان بچے یا بچی کی پیشانی پر ہاتھ رکھکر آسمان کی طرف منہ کر کے 21 بار پڑھنے سے بچہ و بچی نیک بنیں گے۔

*51- یَاحَقُّ:*
قیدی آدھی رات ننگے سر  108 بار پڑھے تو رہائی پائیگا۔

*52- یَاوَكِيْلُ:*
عصر کے وقت سے لیکر غروب آفتاب تک 7 بار پڑھنے والا آفت سے پناہ پائیگا۔

*53- یَاقَوِيُّ:*
جمعہ کی دوسری گھڑی میں پڑھنے سے بھولنے کا مرض دور ہوگا۔

*54- یَامَتِيْنُ:*
جس بچے کا دودھ چھڑا دیا ہو اس کو کاغذ پر لکھ کر پلانے سے اسےسکون ملیگا،
جس عورت کا دودھ کم ہو اسے لکھکر پلانے سے دودھ زیادہ ہوگا۔

*55- یَاوَلِيُّ:*
اسے زیادہ پڑھنے والے کی بیوی فرمانبردار ہوگی۔

*56- یَاحَمِيْدُ:*
گندی باتوں کی عادت نہ جاتی ہو وہ 90 بار پڑھکر کسی خالی پیالے یا گلاس پر دم کر کے اسی میں پانی پیا کریں، ایک بار کا دم کیا ہوا پیالہ یا گلاس سالوں تک چلا سکتے ہیں۔

*57- یَامُحْیِيْ:*
گیس ہو یا پیٹ یا کسی اور جگہ درد ہو یا کسی عضو کے ضائع ہونے کا خوف ہو تو 7 بار پڑھ کر اپنے اوپر دم کرنے سے فائدہ ہوگا۔

*58- یَامُمِيْتُ:*
روزانہ 7 بار پڑھکر اپنے اوپر دم کرنے سے جادو اثر نہیں کریگا۔

*59- یَاحَيُّ:*
جو بیمار ہزار بار پڑھے شفا پائیگا۔

*60- یَاقَيُّومُ:*
صبح کو طلوعِ آفتاب سے پہلے زیادہ پڑھنے سے لوگ دوست رکھیں گے۔

*61- یَاوَاجِدُ:*
ہر نوالے پر پڑھنے سے وہ نوالہ پیٹ میں نور ہوگا اور بیماری دور ہوگی۔

*ُ62- یامَاجِدُ:*
جو کوئی 10 بار پڑھکر شربت وغیرہ پر دم کر کے پی لے گا بیمار نہ ہوگا۔

*63- یَاوَاحِدُ:*
جسے ڈر لگتا ہو وہ تنہائی میں 1001 (ایک ہزارایک) بار پڑھ لے تو اسکا خوف جاتا رہیگا۔

*64- یَاأَحَدُ:*
1- تنہائی میں 1000 (ہزار) بار پڑھنے والا نیک بن جائیگا۔
2۔ 9 بار پڑھکر حاکم اور افسر کے پاس جانے والا عزت اور سرفرازی پائیگا۔

*65- یَاصَمَدُ:*
1000 (ہزار) بار پڑھنے والا دشمن پر فتح پائیگا۔

*66- یَانُوْرُ:*
جو 7 بار سورة النور پڑھے پھر 1001 (ایک ہزارایک) بار اس کو پڑھے تو اسکا دل روشن ہوگا۔

*67- یَامُؤَخِّرُ:*
کسی بھی نماز کے بعد 100 بار پڑھنے سے دل اللہ عزوجل کی محبت اور یاد میں رہیگا۔

*68- یَااَللّٰہُ:*
ہر نماز کے بعد 100 بار پڑھنے سے باطن کشادہ ہوگا۔

*69- یَاقَادِرُ:*
1- مشکل آ پڑے تو 41 بار پڑھنے سے مشکل آسان ہوگی۔
2- دوران وضو ہرعضو دھوتے وقت پڑھنے سے دشمن (انسان ہو یا جن) اغوا نہیں کر سکے گا۔

*70- یَامُقْتَدِرُ:*
1۔ 20 بار روزانہ پڑھنے سے اللہ عزوجل کی رحمتوں کے سائے میں رہیگا۔
2- نیند سے بیدار ہو کر 20 بار پڑھنے سے ہر کام میں اللہ عزوجل کی مدد شامل رہیگی۔

*71- یَامُقَدِّمُ:*
جنگ یا خوف کی جگہ بےچینی کی حالت میں پڑھیں۔

*72- یَامُؤَخِّرُ:*
100 بار روزانہ پڑھنے سے سب کام پورے ہوں گے۔

*73- یَاأَوَّلُ:*
100 بار روزانہ پڑھنے سے بیوی محبت کریگی۔

*74- یَاآخِرُ:*
جو کسی جگہ جائے اسکو پڑھ لے تو وہاں عزت پائیگا۔

*75- یَاظَاهِرُ:*
گھر کی دیوار پر لکھ لینے سے دیوار سلامت رہیگی۔

*76- یَابَاطِنُ:*
جو کسی کو امانت سونپے یا زمین میں دفن کرے تو اسمیں اَلْبَاطِنُ لکھ کر رکھدے تو اسمیں خیانت نہ ہوگی۔ 

*77- یَاوَالِيْ:*
کورے پیالے پر لکھ کر اسمیں پانی ڈال کر گھر کے درودیوار پر ڈالنے سے گھر آفتوں سے امن میں رہیگا۔

*78- یَامُتَعَالِی:*
مشکل ترین کاموں میں اسکی کثرت مفید ہے۔

*79- یَابَرُّ:*
7 بار پڑھکر بچے پر دم کر کے اللہ عزوجل کے سپرد کرنے سے بالغ ہونے تک وہاں بچہ بلاؤں سے محفوظ رہیگا۔

*80- یَاتَوَّابُ:*
چاشت کی نماز کے بعد 360 بار پڑھنے والے کو خالص توبہ نصیب ہوگی۔

*81- یَامُنْتَقِمُ:*
تین جمعہ تک اسکو کثرت سے پڑھنے سے دشمن دوست بن جائیگاـ

*82- یَاعَفُوُّ:*
گناہگار اسکی کثرت کرے تو اسکے گناہ معاف ہوجائیں گے۔

*83- یَارَءُوْفُ:*
ظالم سے مظلوم کا پیچھا چھڑانے والا 10 بار پڑھکر ظالم سے بات کرے تو وہ اسکی سفارش قبول کریگا۔

*84- یَامَالِكَ الْمُلْكِ:*
اس کی کثرت سے خوشحالی نصیب ہوگی۔

*85- یَاذَا الْجَلَالِ وَالْإِكْرَامِ:*
1- اس کی کثرت سے خوشحالی نصیب ہوگی۔
2- اس کی کثرت کر کے دعا کرنے سے دعا قبول ہوگی۔

*86- یَامُقْسِطُ:*
شیطانی وسوں کے لیے 100 بار پڑھنا مفید ہے۔

*87- یَاجَامِعُ:*
چاشت کے وقت غسل کر کے آسمان کی طرف منہ کر کے 10 بار پڑھیں اور ہر بار میں ایک انگلی بند کرتے جائیں پھر اپنے منہ پر ہاتھ پھیر لیں تو تھوڑے عرصہ میں جدا ہونے والے عزیز و اقارب جمع ہو جائیں گے۔

*88- یَاغَنِيُّ:*
چلتے پھرتے، اٹھتے بیٹھتے پڑھنے سے ریڑھ کی ہڈی، گھٹنوں، جوڑوں کا درد یا جسم کے کسی حصے کا بھی درد جاتا رہیگا۔

*89- یَامُغْنِيُ:*
ایک بار پڑھکر ہاتھوں پر دم کر کے درد کی جگہ ملنے سے سکون ملے گا۔

*90- یَامَانِعُ:*
شوہر ناراض ہو تو بیوی اوربیوی ناراض ہو تو شوہر سونے سے پہلے بچھونے پر بیٹھ کر 20 بار پڑھے تو صلح ہو جائیگی۔ (تاحصولِ مراد)

*91- یَاضَآرُّ:*
جسے کوئی منصب و عہدہ ملے اور وہ اس پر؛قائم رہناچاہے تو وہ ہر شبِ جمعہ (جمعہ اور جمعرات کی درمیانی رات) اور ایامِ بیض میں 100 بار پڑھے۔
*نوٹ:* ہر اسلامی ماہ کی 13، 14 اور 15 تاریخ کو ایامِ بیض کہتے ہیں۔

*92- یَانَافِعُ:*
کسی کام کو شروع کرنے سے پہلے 20 بار پڑھنے سے وہ کام مرضی کے مطابق ہوتا ہے۔

*93- ھُوَاللّٰہُ الرَّحِیْمُ:*
ہر نماز کے بعد 7 بار پڑھنے سے شیطان کے شر سے حفاظت ہوگی اورخاتمہ ایمان پر ہوگا۔

*94- یَاهَادِيُ:*
جو آسمان کی طرف منہ کر کے ہاتھ اٹھا کر اس کوکثرت سے پڑھےاور وہ ہاتھ اپنی آنکھوں اورمنہ پر مل لے تو اہل معرفت کا مرتبہ پائیگا۔

*95- یَابَدِيْعُ:*
جسے سخت مہم درپیش ہو وہ 7000 (سات ہزار) بار پڑھے تو کامیاب ہوگا۔

*96- یَابَاقِيُ:*
جو سورج نکلنے سے پہلے 100 بار پڑھیگا دکھ سے محفوظ رہیگا۔

*97- یَاوَارِثُ:*
اس کا ورد کرنے والے کی عمر لمبی ہوگی۔

*98- یارَشِيدُ:*
جو شخص کسی کام کی تدبیر نہ جانتا ہو وہ مغرب و عشاء کے درمیان 1000 (ہزار) بار پڑھے، دل میں صحیح تدبیر آ جائیگی۔

*99- یاصَبُوْرُ:*
درد، رنج اور مصیبت کے وقت 33 بار پڑھنے سے سکون مليگا.
*Regards Muhammad Moazam Naich*
مکمل تحریر اور تبصرے>>

جنرل نالج علامہ اقبال

*General Knowledge MCQs*
1  علامہ اقبال کب پیدا  ہوئے      
جواب     *9نومبر 1877*   
2  علامہ اقبال کب فوت ہوئے تاریخ    
جواب    *21 اپریل 1938*
3   علامہ کے دو یورپی اساتزہ کے نام لکھیے     
جواب      *1اے بی براون  2سر ٹامس آرنلڈ*    
4  اقبال کی پہلی بیوی کا نام کیا تھا    
جوب    *کریم بی بی*      
5  جاوید نامہ کا سال اشاعت کیا ہے      
جواب   *1932*   
6   بانگ درا کب شائع ہوئی     
جواب   *1924*    
7  بانگ درا کی پہلی نظم کا عنوان کیا ہے    
جواب  *ہمالہ*      
8  علامہ اقبال کس ہندوستانی ریاست میں بغرض علاج گئے تھے    
جواب    *دہلی*      
9اقبال کس ریاست کے جج بننا چاہتے تھے    
جواب   *حیدرآباد*      
10   اقبال کس ریاست کے  مشیر تھے     
جواب     *بہاولپور*    
11 کس مضمون  میں ماسٹر کیا      
جواب    *فلسفہ*    
12   علم الاقتصاد   کب شائع ہوئی    
جواب     *1903*    
13  زبور عجم کب شائع    ہوئی    
جواب   *1927*    
14  لیجیسلیٹو کونسل کی ممبر کب بنے     
جواب  *1926*    
15  ضرب    کلیم کب شائع ہوئی      
جواب   *1936*   
16   اسرار خودی کب شائع  ہوئی     
جواب *1915*
17  پیام مشرق کب شائع ہوئی  کس زبان میں ہے    
جواب  *1922  فارسی*   
18  رموز بے خودی    کب شائع ہوئی     
جواب    *1918*    
19 بال جبریل  کب شائع ہوئی   کس زبان میں ہے    
جواب    *1935  اردو*  
20   ارمغان حجاز کب شائع  ہوئی    
جواب    *1938*   
21  اقبال کے والد کا نام کیا تھا   
جواب   *شیخ نور محمد*    
22 اقبال نے کس ہونیورسٹی  سے phd کی ڈگری لی  
جواب   *میونخ   یونیورسٹی*   
23 اقبال فلسطین کس وجہ سے گئے تھے   
جواب  *موتمر عالم اسلامی کے اجلاس میں شرکت کے لیے*   
24 اقبال کے خطبات کس نام سے شائع ہوئے    
جواب  reconstruction of *religious thoughts in iislam
25   زندہ رود  کس کی کتاب ہے     
جواب   *جاوید اقبال*    
26 نظم طلوع اسلام کس مجموعے میں شامل ہے    
جواب   *بانگ درا*    
27   اقبال نے پیام مشرق کو کس کے نام کیا   
جواب    *امیر امان اللہ    فرمانروا افغانستان*   
28  اقبال کے  دادا کا نام کیا   تھا   
جواب  *شیخ محمد رفیق*    
29   اقبال کی والدہ کا نام کیا تھا    
جواب   *امام بی بی*      
30  اقبال کی آخری نظم کون سی تھی    
جواب   *حضرت انسان*
31 ان پڑھ فلسفی کسے   کہا جاتا تھا    
جواب   *شیخ نور محمد*   
32 اقبال اور فیض کے مشترک استاد کون تھے   
جواب   *میر حسن*    
33  شاعری میں اقبال کے استاد کون تھے    
جواب    *مرزا داغ دہلوی*     
34  اقبال کو سر عبدالقادرنے کس شاعر کا دوسرا جنم قرار دیا      
جواب    *غالب*    
35   اقبال لندن کتنی مرتبہ تشریف لے گئے تھے   
جواب   *2*
36   اقبال نے ہسپانیہ میں کون سی طویل نظم لکھی   تھی     
جواب    *مسجد قرطبہ*    
37 اقبال کے بڑے بیٹے کا نام کیا تھا    
جواب   *آفتاب اقبال*   
38  یورپ جانے سے پہلے کس بزرگ کے دربار پر حاضری دی 
  
جواب   *نظام الدین اولیا*    
39 کس بزرگ شاعر کو اقبالنے تنقید کا نشانہ بنایا   
جواب    *حافظ شیرازی*    
40  اقبال نے کس کو مجذوب فرنگی کہا    
جواب    *نطشے*    
41  بانگ درا میں اقبال نے کس صحابی کا زکرکیا   
جواب    *حضرت ابو بکر صدیق*   
42  اقبال نے کس مغل بادشاہ کو اسلامی ترکش کا آخری تیر کہا      
جواب     *بہادر شاہ ظفر*    
43  اقبال کامرشد کون تھا    
جواب     *مولانا رومی*     
44 ,اقبال نے کس کتاب کو ڈیوئن کامیڈی کہا   
جواب   *جاوید نامہ*    
45  اقبال کو حکیم حیات کا لقب کس نے دیا    
جواب    *گوئٹے*       
46 مثنوی مسافر کس سفر کی یادگار ہے    
جواب   *افغانستان*    
47 اقبال نے کس بادشاہ کی اقتدا میں نماز پڑھی   
جواب   *امیر امان اللہ خان*       
48 نظم طلوع اسلام   کس اسلامی ملک کی جنگی فتوحات کے پس منظر میں لکھی گئی     
جواب *ترک عثمانیہ*      
49  مسجد قرطبہ کس دریا کے کنارے واقع ہے    
جواب     *دریائے کبیر*    
50   اقبال نے مسجد قرطبہ میں کون سی نظم لکھی      
جواب   *دعا*
مکمل تحریر اور تبصرے>>

Saturday, June 29, 2019

جداگانہ انداز فکر

*سوچ کا زاویہ*

*ایک بادشاہ کے سامنے چار آدمی بیٹھے تھے*

*1 : اندھا*
*2 : فقیر*
*3 : عاشق*
*4 : عالم*

*بادشاہ نے ایک مصرعہ کہہ دیا:*

*"اس لیے تصویر جاناں ہم نے بنوائی نہیں"*

*اور سب کو حکم دیا کہ اس سے پہلے مصرعہ لگا کر شعر پورا کرو۔*

*1 : اندھے نے کہا:*

*"اس میں گویائی نہیں اور مجھ میں بینائی نہیں،*
*اس لیے تصویر جاناں ہم نے بنوائی نہیں"*

*2 : فقیر نے کہا:*

*"مانگتے تھے زر مصور جیب میں پائی نہیں،*
*اس لیے تصویر جاناں ہم نے بنوائی نہیں"*

*3 : عاشق نے تو چھوٹتے ہی کہا:*

*"ایک سے جب دو ہوئے پھر لطف یکتائی نہیں،*
*اس لیے تصویر جاناں ہم نے بنوائی نہیں"*

*4 : عالم دین نے تو کمال ہی کردیا:*

*"بت پرستی دین احمد ﷺ میں کبھی آئی نہیں،*
*اس لیے تصویر جاناں ہم نے بنوائی نہیں"*

*سوچ کا زاویہ ہر ایک کا جدا ہوتا ہے، ہر کسی کا فکری انداز اسکے مطالعے، مجالست اور تربیت کی مناسبت سے ہوتا ہے. غالبا" یہی جداگانہ انداز فکر قدرت کی نعمت ھے۔*

مکمل تحریر اور تبصرے>>

Sunday, June 23, 2019

دو منٹ کی مثالی عدالت

دو منٹ کی مثالی عدالت، ایک خوبصورت واقعی:

عرب سالار قتیبہ بن مسلم نے اسلامی لشکر کشی کے اصولوں سے انحراف کرتے ہوئے سمرقند کو فتح کر لیا تھا،

اصول یہ تھا کہ حملہ کرنے سے پہلے تین دن کی مہلت دی جائے۔

اور یہ بے اصولی ہوئی بھی تو ایسے دور میں جب زمانہ بھی عمر بن عبدالعزیز کا چل رہا تھا۔

🍀 سمرقند کے پادری نے مسلمانوں کی اس غاصبانہ فتح پر قتیبۃ کے خلاف شکایت دمشق میں بیٹھے مسلمانوں کے حاکم کو ایک پیغامبر کے ذریعہ خط لکھ کر بھجوائی۔

پیغامبر نے دمشق پہنچ کر ایک عالیشان عمارت دیکھی جس میں لوگ رکوع و سجود کر رہے تھے۔

اُس نے لوگوں سے پوچھا :
کیا یہ حاکمِ شہر کی رہائش ہے ؟ لوگوں نے کہا یہ تو مسجد ہے،
تو نماز نہیں پڑھتا کیا ؟
پیغامبر نے کہا نہیں، میں اھلِ سمرقند کے دین کا پیروکارہوں۔ لوگوں نے اُسے حاکم کے گھر کا راستہ دکھا دیا۔

🍀 پیغامبر لوگوں کے بتائے ہوئے راستہ پر چلتے حاکم کے گھر جا پہنچا، کیا دیکھتا ہے کہ ایک شخص دیوار سے لگی سیڑھی پر چڑھ کر چھت کی لپائی کر رہا ہے اور نیچے کھڑی ایک عورت گارا اُٹھا کر اُسے دے رہی ہے۔

پیغامبر جس راستے سے آیا تھا واپس اُسی راستے سے اُن لوگوں کے پاس جا پہنچا جنہوں نے اُسے راستہ بتایا تھا۔

اُس نے لوگوں سے کہا میں نے تم سے حاکم کے گھر کا پتہ پوچھا تھا نہ کہ اِس مفلوک الحال شخص کا جس کے گھر کی چھت بھی ٹوٹی ہوئی ہے۔

لوگوں نے کہا،
ہم نے تجھے پتہ ٹھیک ہی بتایا تھا، وہی حاکم کا گھر ہے۔
پیغامبر نے بے دلی سے دوبارہ اُسی گھرپر جا کر دستک دی،

جو شخص کچھ دیر پہلے تک لپائی کر رہا تھا وہی اند ر سے نمودار ہوا۔

🍀 میں سمرقند کے پادری کی طرف سے بھیجا گیا پیغامبر ہوں کہہ کر اُس نے اپنا تعارف کرایا اور خط حاکم کو دیدیا۔

اُس شخص نے خط پڑھ کر اُسی خط کی پشت پر ہی لکھا :
عمر بن عبدالعزیز کی طرف سے سمرقند میں تعینات اپنے عامل کے نام؛ ایک قاضی کا تقرر کرو جو پادری کی شکایت سنے۔
مہر لگا کر خط واپس پیغامبر کو دیدیا۔

پیغامبر وہاں سے چل تو دیا مگر اپنے آپ سے باتیں کرتے ہوئے،
کیا یہ وہ خط ہے جو مسلمانوں کے اُس عظیم لشکر کو ہمارے شہر سے نکالے گا ؟

سمرقند لوٹ کر پیغامبر نے خط پادری کو تھمایا، جسے پڑھ کر پادری کو بھی اپنی دنیا اندھیر ہوتی دکھائی دی،
خط تو اُسی کے نام لکھا ہوا تھا جس سے اُنہیں شکایت تھی،
اُنہیں یقین تھا کاغذ کا یہ ٹکڑا اُنہیں کوئی فائدہ نہیں پہنچا سکے گا۔

🍀 مگر پھر بھی خط لیکر مجبورا اُس حاکمِ سمرقند کے پاس پہنچے جس کے فریب کا وہ پہلے ہی شکار ہو چکے تھے۔

حاکم نے خط پڑھتے ہی فورا ایک قاضی (جمیع نام کا ایک شخص) کا تعین کردیا جو سمرقندیوں کی شکایت سن سکے۔

موقع پر ہی عدالت لگ گئی،
ایک چوبدار نے قتیبہ کا نام بغیر کسی لقب و منصب کے پکارا، قتیبہ اپنی جگہ سے اُٹھ کر قاضی کے رو برو اور پادری کے ساتھ ہو کر بیٹھ گیا۔

قاضی نے سمرقندی سے پوچھا، کیا دعویٰ ہے تمہارا ؟
پادری نے کہا : قتیبہ نے بغیر کسی پیشگی اطلاع کے ہم پر حملہ کیا، نہ تو اِس نے ہمیں اسلام قبول کرنے کی دعوت دی تھی اور نہ ہی ہمیں کسی سوچ و بچار کا موقع دیا تھا۔

🍀 قاضی نے قتیبہ کو دیکھ کر پوچھا، کیا کہتے ہو تم اس دعویٰ کے جواب میں ؟
قتیبہ نے کہا : قاضی صاحب، جنگ تو ہوتی ہی فریب اور دھوکہ ہے،

سمرقند ایک عظیم ملک تھا،
اس کے قرب و جوار کے کمتر ملکوں نے نہ تو ہماری کسی دعوت کو مان کر اسلام قبول کیا تھا اور نہ ہی جزیہ دینے پر تیار ہوئے تھے،
بلکہ ہمارے مقابلے میں جنگ کو ترجیح دی تھی۔

سمرقند کی زمینیں تو اور بھی سر سبز و شاداب اور زور آور تھیں، ہمیں پورا یقین تھا کہ یہ لوگ بھی لڑنے کو ہی ترجیح دیں گے، ہم نے موقع سے فائدہ اُٹھایا اور سمرقند پر قبضہ کر لیا۔

🍀 قاضی نے قتیبہ کی بات کو نظر انداز کرتے ہوئے دوبارہ پوچھا :
قتیبہ میری بات کا جواب دو،
تم نے ان لوگوں کو اسلام قبول کرنے کی دعوت، جزیہ یا پھر جنگ کی خبر دی تھی ؟

قتیبہ نے کہا : نہیں قاضی صاحب، میں نے جس طرح پہلے ہی عرض کر دیا ہے کہ ہم نے موقع سے فائدہ اُٹھایا تھا۔

قاضی نے کہا : میں دیکھ رہا ہوں کہ تم اپنی غلطی کا اقرار کر رہے ہو، اس کے بعد تو عدالت کا کوئی اور کام رہ ہی نہیں جاتا۔

قتیبہ : اللہ نے اس دین کو فتح اور عظمت تو دی ہی عدل و انصاف کی وجہ سے ہے نہ کہ دھوکہ دہی اور موقع پرستی سے۔

میری عدالت یہ فیصلہ سناتی ہے کہ تمام مسلمان فوجی اور انکے عہدہ داران بمع اپنے بیوی بچوں کے، اپنی ہر قسم کی املاک، گھر اور دکانیں چھوڑ کر سمرقند کی حدوں سے باہر نکل جائیں اور سمر قند میں کوئی مسلمان باقی نہ رہنے پائے۔ اگر ادھر دوبارہ آنا بھی ہو تو بغیر کسی پیشگی اطلاع و دعوت کے اور تین دن کی سوچ و بچار کی مہلت دیئے بغیر نہ آیا جائے۔

پادری جو کچھ دیکھ اور سن رہا تھا وہ ناقابل یقین بلکہ ایک مذاق اور تمثیل نظر آ رہا تھا۔

چند لمحوں کی یہ عدالت، نہ کوئی گواہ اور نہ ہی دلیلوں کی ضرورت۔ اور تو اور قاضی بھی اپنی عدالت کو برخاست کرکے قتیبہ کے ساتھ ہی اُٹھ کر جا رہا تھا۔

اور چند گھنٹوں کے بعد ہی سمرقندیوں نے اپنے پیچھے گرد و غبار کے بادل چھوڑتے لوگوں کے قافلے دیکھے جو شہر کو چھوڑ  کر کے جا رہے تھے۔

لوگ حیرت سے ایک دوسرے سے سبب پوچھ رہے تھے اور جاننے والے بتا رہے تھے کہ عدالت کے فیصلے کی تعمیل ہو رہی تھی۔

اور اُس دن جب سورج ڈوبا تو سمرقند کی ویران اور خالی گلیوں میں صرف آوارہ کتے گھوم رہے تھے اور سمرقندیوں کے گھروں سے آہ و پکار اور رونے دھونے کی آوازیں سنائی دے رہی تھیں، اُن کو ایسے لوگ چھوڑ کر جا رہے تھے جن کے اخلاق ، معاشرت، برتاؤ، معاملات اور پیار و محبت نے اُن کو اور اُن کے رہن سہن کو مہذب بنا دیا تھا۔

🍀 تاریخ گواہ ہے کہ سمرقندی یہ فراق چند گھنٹے بھی برداشت نہ کر پائے، اپنے پادری کی قیادت میں لا الٰہ الاّ اللہ محمّد الرّسول اللہ کا اقرار کرتے مسلمانوں کے لشکر کے پیچھے روانہ ہوگئے اور اُن کو واپس لے آئے۔

اور یہ سب کیوں نہ ہوتا، کہیں بھی تو ایسا نہیں ہوا تھا کہ فاتح لشکر اپنے ہی قاضی کی کہی دو باتوں پر عمل کرے اور شہر کو خالی کردے۔

دینِ رحمت نے وہاں ایسے نقوش چھوڑے کہ سمرقند ایک عرصہ تک مسلمانوں کا دارالخلافہ بنا رہا۔

Justice visible
مندرجہ بالا واقعہ شیخ علی
طنطاوی رحمۃ اللہ علیہ کی کتاب (قصص من التاریخ) کے صفحہ نمبر 411 (مصر میں 1932 میں چھپی ہوئی) سے لے کر اردو میں ترجمہ کیا گیا ہے۔

مکمل تحریر اور تبصرے>>

اورنگزیب عالمگیر کی مزدوری

🌹 نصیحت آموز واقعات 🌹

مُلا احمد جیون ہندوستان کے مغل بادشاہ اورنگ زیب عالمگیر کے استاد تھے۔ اورنگ زیب اپنے استاد کا بہت احترام کرتے تھے۔ اور استاد بھی اپنے شاگرد پر فخر کرتے تھے۔ جب اورنگ زیب ہندوستان کے بادشاہ بنے تو انہوں نے اپنے غلام کے ذریعے استاد کو پیغام بھیجا کہ وہ کسی دن دہلی تشریف لائیں اور خدمت کا موقع دیں۔ اتفاق سے وہ رمضان کا مہینہ تھا اور مدرسہ کے طالب علموں کو بھی چھٹیاں تھی۔ چنانچہ مُلا احمد جیون نے دہلی کا رُخ کیا۔ استاد اور شاگرد کی ملاقات عصر کی نماز کے بعد دہلی کی جامع مسجد میں ہوئی۔ استاد کو اپنے ساتھ لے کر اورنگ زیب شاہی قلعے کی طرف چل پڑے۔

رمضان کا سارا مہینہ اورنگ زیب اور استاد نے اکھٹے گزارا۔۔ عید کی نماز ادا کرنے کے بعد مُلا جیون نے واپسی کا ارادہ ظاہر کیا۔ بادشاہ نے جیب سے ایک چونّی نکال کر اپنے استاد کو پیش کی۔ استاد نے بڑی خوشی سے نذرانہ قبول کیا اور گھر کی طرف چل پڑے۔ اس کے بعد اورنگ زیب دکن کی لڑائیوں میں اتنے مصروف ہوئے کہ چودہ سال تک دہلی آنا نصیب نہ ہوا۔ جب وہ واپس آئے تو وزیر اعظم نے بتایا۔ مُلا احمد جیون ایک بہت بڑے زمیندار بن چکے ہیں۔اگر اجازت ہو تو اُن سے لگان وصول کیا جائے۔ یہ سن کر اورنگ زیب حیران رہ گئے کہ ایک غریب استاد کس طرح زمیندار بن سکتا ہے۔ انہوں نے استاد کو ایک خط لکھا اور ملنے کی خواہش ظاہر کی۔

مُلا احمد جیون پہلے کی طرح رمضان کے مہینے میں تشریف لائے۔ اورنگزیب نے بڑی عزت کے ساتھ انہیں اپنے پاس ٹھہرایا۔ مُلا احمد کا لباس، بات چیت اور طور طریقے پہلے کی طرح سادہ تھے۔ اس لیے بادشاہ کو ان سے بڑا زمیندار بننے کے بارے میں پوچھنے کا حوصلہ نہ ہوا۔ ایک دن مُلا صاحب خود کہنے لگے: آپ نے جو چونّی دے تھی وہ بڑی بابرکت تھی۔ میں نے اس سے بنولہ خرید کر کپاس کاشت کی۔ خدا نے اس میں اتنی برکت دی کہ چند سالوں میں سینکڑوں سے لاکھوں ہو گئے۔ اورنگ زیب یہ سن کر خوش ہوئے اور مُسکرانے لگے اور فرمایا: اگر اجازت ہو تو چونّی کی کہانی سناؤں۔ ملا صاحب نے کہا ضرور سنائیں۔

اورنگ زیب نے اپنے خادم کو حکم دیا کہ چاندنی چوک کے سیٹھ “اتم چند” کو فلاں تاریخ کے کھاتے کے ساتھ پیش کرو۔ سیٹھ اتم چند ایک معمولی بنیا تھا۔ اسے اورنگ زیب کے سامنے پیش کیا گیا تو وہ ڈر کے مارے کانپ رہا تھا۔ اورنگ زیب نے نرمی سے کہا: آگے آجاؤ اور بغیر کسی گھبراہٹ کے کھاتہ کھول کے خرچ کی تفصیل بیان کرو۔ سیٹھ اتم چند نے اپنا کھاتہ کھولا اور تاریخ اور خرچ کی تفصیل سنانے لگا۔ مُلا احمد جیون اور اورنگ زیب خاموشی سے سنتے رہے ایک جگہ آ کے سیٹھ رُک گیا۔ یہاں خرچ کے طور پر ایک چونّی درج تھی لیکن اس کے سامنے لینے والے کا نام نہیں تھا۔ اورنگ زیب نے نرمی سے پوچھا: ہاں بتاؤ یہ چونی کہاں گئی؟ اتم چند نے کھاتہ بند کیا اور کہنے لگا: اگر اجازت ہو تو درد بھری داستان عرض کروں؟ بادشاہ نے کہا : اجازت ہے۔

اتم چند نے کہا: اے بادشاہِ وقت! ایک رات موسلا دھاربارش ہوئی۔ میرا مکان ٹپکنے لگا۔ مکان نیا نیا بنا تھا اور تما م کھاتے کی تفصیل بھی اسی مکان میں تھی۔ میں نے بڑی کوشش کی ، لیکن چھت ٹپکتی رہی۔ میں نے باہر جھانکا تو ایک آدمی لالٹین کے نیچے کھڑا نظر آیا۔ میں نے مزدور خیال کرتے ہوئے پوچھا، اے بھائی مزدوری کرو گے؟ وہ بولا کیوں نہیں۔ وہ آدمی کام پر لگ گیا۔ اس نے تقریباً تین چار گھنٹے کام کیا، جب مکان ٹپکنا بند ہوگیا تو اس نے اندر آکر تمام سامان درست کیا۔ اتنے میں صبح کی اذان شروع ہو گئی۔ وہ کہنے لگا: سیٹھ صاحب! آپ کا کام مکمل ہو گیا مجھے اجازت دیجیے۔ میں نے اسے مزدوری دینے کی غرض سے جیب میں ہاتھ ڈالا تو ایک چونّی نکلی۔ میں نے اس سے کہا: اے بھائی! ابھی میرے پاس یہی چونّی ہے یہ لے ،اور صبح دکان پر آنا تمہیں مزدوری مل جائے گی۔ وہ کہنے لگا یہی چونّی کافی ہے، میں پھر حاضر نہیں ہوسکتا۔ میں نے اور میری بیوی نے اس کی بہت منتیں کیں۔ لیکن وہ نہ مانا اور کہنے لگا دیتے ہو تو یہ چونّی دے دو، ورنہ رہنے دو۔ میں نے مجبور ہو کر چونّی دے دی اور وہ لے کر چلا گیا۔ اور اس کے بعد سے آج تک وہ نہ مل سکا۔ آج اس بات کو پندرہ برس بیت گئے۔ میرے دل نے مجھے بہت ملامت کی کہ اسے روپیہ نہ سہی، اٹھنی دے دیتا۔ اس کے بعد اتم چند نے بادشاہ سے اجازت چاہی اور چلا گیا۔

بادشاہ نے مُلا صاحب سے کہا: یہ وہی چونّی ہے۔ کیونکہ میں اس رات بھیس بدل کر گیا تھا تا کہ رعایا کا حال معلوم کر سکوں۔ سو وہاں میں نے مزدور کے طور پر کام کیا۔ مُلا صاحب خوش ہو کر کہنے لگے۔مجھے پہلے ہی معلوم تھا کہ یہ چونّی میرے ہونہار شاگرد نے اپنی محنت سے کمائی ہوگی۔ اورنگ زیب نے کہا : ہاں واقعی‘ میں خوش ہوں کہ میری وجہ سے کسی ضرورت مند کی ضرورت پوری ہوئی یہ سب آپ کی دعاؤں نتیجہ ہے.(مولانا شبلی نعمانی کی کتاب "اورنگزیب عالمگیر پر ایک نظر" سے ماخوذ، انتخاب)

مکمل تحریر اور تبصرے>>