بیاض ماجد حسین
خوبصورت مضامین اور دلچسپ تحریروں سے مزین اردو بلاگ۔تشریف آوری کا شکریہ
pati
Tuesday, March 3, 2020
افغانستان کی معلومات
Thursday, February 27, 2020
کرونا وائرس سے بچنے کے لئے مسنون دعائیں
نمبر١ :
صبح شام تين تين مرتبہ یہ پڑھیں، کوئی چیز نقصان نہیں پہنچا سکے گی.
*« ﺑﺴﻢ اﻟﻠﻪ اﻟﺬﻱ ﻻ ﻳﻀﺮ ﻣﻊ اﺳﻤﻪ ﺷﻲء ﻓﻲ اﻷﺭﺽ ﻭﻻ ﻓﻲ اﻟﺴﻤﺎء، ﻭﻫﻮ اﻟﺴﻤﻴﻊ اﻟﻌﻠﻴﻢ»*
[ سنن الترمذی : 3388] صحيح.
*«اﻟﻠﻬﻢ ﺇﻧﻲ ﺃﻋﻮﺫ ﺑﻚ ﻣﻦ اﻟﺒﺮﺹ، ﻭاﻟﺠﻨﻮﻥ، ﻭاﻟﺠﺬاﻡ، ﻭﻣﻦ ﺳﻴﺊ اﻷﺳﻘﺎﻡ»*
[ ابو داود : 1554] ﺻﺤﻴﺢ.
جب مرض (وائرس) والے کو دیکھو تو یہ دعا پڑھیں.
*«اﻟﺤﻤﺪ ﻟﻠﻪ اﻟﺬﻱ ﻋﺎﻓﺎﻧﻲ ﻣﻤﺎ اﺑﺘﻼﻙ ﺑﻪ، ﻭﻓﻀﻠﻨﻲ ﻋﻠﻰ ﻛﺜﻴﺮ ﻣﻤﻦ ﺧﻠﻖ ﺗﻔﻀﻴﻼ»*
[ سنن ترمذی : 3431] حسن.
آمین ثم آمین.
Tuesday, February 25, 2020
اَسْمَآءُالْحُسْنٰى اور ان کے فوائد
جنرل نالج علامہ اقبال
Saturday, June 29, 2019
جداگانہ انداز فکر
*سوچ کا زاویہ*
*ایک بادشاہ کے سامنے چار آدمی بیٹھے تھے*
*1 : اندھا*
*2 : فقیر*
*3 : عاشق*
*4 : عالم*
*بادشاہ نے ایک مصرعہ کہہ دیا:*
*"اس لیے تصویر جاناں ہم نے بنوائی نہیں"*
*اور سب کو حکم دیا کہ اس سے پہلے مصرعہ لگا کر شعر پورا کرو۔*
*1 : اندھے نے کہا:*
*"اس میں گویائی نہیں اور مجھ میں بینائی نہیں،*
*اس لیے تصویر جاناں ہم نے بنوائی نہیں"*
*2 : فقیر نے کہا:*
*"مانگتے تھے زر مصور جیب میں پائی نہیں،*
*اس لیے تصویر جاناں ہم نے بنوائی نہیں"*
*3 : عاشق نے تو چھوٹتے ہی کہا:*
*"ایک سے جب دو ہوئے پھر لطف یکتائی نہیں،*
*اس لیے تصویر جاناں ہم نے بنوائی نہیں"*
*4 : عالم دین نے تو کمال ہی کردیا:*
*"بت پرستی دین احمد ﷺ میں کبھی آئی نہیں،*
*اس لیے تصویر جاناں ہم نے بنوائی نہیں"*
*سوچ کا زاویہ ہر ایک کا جدا ہوتا ہے، ہر کسی کا فکری انداز اسکے مطالعے، مجالست اور تربیت کی مناسبت سے ہوتا ہے. غالبا" یہی جداگانہ انداز فکر قدرت کی نعمت ھے۔*
Sunday, June 23, 2019
دو منٹ کی مثالی عدالت
دو منٹ کی مثالی عدالت، ایک خوبصورت واقعی:
عرب سالار قتیبہ بن مسلم نے اسلامی لشکر کشی کے اصولوں سے انحراف کرتے ہوئے سمرقند کو فتح کر لیا تھا،
اصول یہ تھا کہ حملہ کرنے سے پہلے تین دن کی مہلت دی جائے۔
اور یہ بے اصولی ہوئی بھی تو ایسے دور میں جب زمانہ بھی عمر بن عبدالعزیز کا چل رہا تھا۔
🍀 سمرقند کے پادری نے مسلمانوں کی اس غاصبانہ فتح پر قتیبۃ کے خلاف شکایت دمشق میں بیٹھے مسلمانوں کے حاکم کو ایک پیغامبر کے ذریعہ خط لکھ کر بھجوائی۔
پیغامبر نے دمشق پہنچ کر ایک عالیشان عمارت دیکھی جس میں لوگ رکوع و سجود کر رہے تھے۔
اُس نے لوگوں سے پوچھا :
کیا یہ حاکمِ شہر کی رہائش ہے ؟ لوگوں نے کہا یہ تو مسجد ہے،
تو نماز نہیں پڑھتا کیا ؟
پیغامبر نے کہا نہیں، میں اھلِ سمرقند کے دین کا پیروکارہوں۔ لوگوں نے اُسے حاکم کے گھر کا راستہ دکھا دیا۔
🍀 پیغامبر لوگوں کے بتائے ہوئے راستہ پر چلتے حاکم کے گھر جا پہنچا، کیا دیکھتا ہے کہ ایک شخص دیوار سے لگی سیڑھی پر چڑھ کر چھت کی لپائی کر رہا ہے اور نیچے کھڑی ایک عورت گارا اُٹھا کر اُسے دے رہی ہے۔
پیغامبر جس راستے سے آیا تھا واپس اُسی راستے سے اُن لوگوں کے پاس جا پہنچا جنہوں نے اُسے راستہ بتایا تھا۔
اُس نے لوگوں سے کہا میں نے تم سے حاکم کے گھر کا پتہ پوچھا تھا نہ کہ اِس مفلوک الحال شخص کا جس کے گھر کی چھت بھی ٹوٹی ہوئی ہے۔
لوگوں نے کہا،
ہم نے تجھے پتہ ٹھیک ہی بتایا تھا، وہی حاکم کا گھر ہے۔
پیغامبر نے بے دلی سے دوبارہ اُسی گھرپر جا کر دستک دی،
جو شخص کچھ دیر پہلے تک لپائی کر رہا تھا وہی اند ر سے نمودار ہوا۔
🍀 میں سمرقند کے پادری کی طرف سے بھیجا گیا پیغامبر ہوں کہہ کر اُس نے اپنا تعارف کرایا اور خط حاکم کو دیدیا۔
اُس شخص نے خط پڑھ کر اُسی خط کی پشت پر ہی لکھا :
عمر بن عبدالعزیز کی طرف سے سمرقند میں تعینات اپنے عامل کے نام؛ ایک قاضی کا تقرر کرو جو پادری کی شکایت سنے۔
مہر لگا کر خط واپس پیغامبر کو دیدیا۔
پیغامبر وہاں سے چل تو دیا مگر اپنے آپ سے باتیں کرتے ہوئے،
کیا یہ وہ خط ہے جو مسلمانوں کے اُس عظیم لشکر کو ہمارے شہر سے نکالے گا ؟
سمرقند لوٹ کر پیغامبر نے خط پادری کو تھمایا، جسے پڑھ کر پادری کو بھی اپنی دنیا اندھیر ہوتی دکھائی دی،
خط تو اُسی کے نام لکھا ہوا تھا جس سے اُنہیں شکایت تھی،
اُنہیں یقین تھا کاغذ کا یہ ٹکڑا اُنہیں کوئی فائدہ نہیں پہنچا سکے گا۔
🍀 مگر پھر بھی خط لیکر مجبورا اُس حاکمِ سمرقند کے پاس پہنچے جس کے فریب کا وہ پہلے ہی شکار ہو چکے تھے۔
حاکم نے خط پڑھتے ہی فورا ایک قاضی (جمیع نام کا ایک شخص) کا تعین کردیا جو سمرقندیوں کی شکایت سن سکے۔
موقع پر ہی عدالت لگ گئی،
ایک چوبدار نے قتیبہ کا نام بغیر کسی لقب و منصب کے پکارا، قتیبہ اپنی جگہ سے اُٹھ کر قاضی کے رو برو اور پادری کے ساتھ ہو کر بیٹھ گیا۔
قاضی نے سمرقندی سے پوچھا، کیا دعویٰ ہے تمہارا ؟
پادری نے کہا : قتیبہ نے بغیر کسی پیشگی اطلاع کے ہم پر حملہ کیا، نہ تو اِس نے ہمیں اسلام قبول کرنے کی دعوت دی تھی اور نہ ہی ہمیں کسی سوچ و بچار کا موقع دیا تھا۔
🍀 قاضی نے قتیبہ کو دیکھ کر پوچھا، کیا کہتے ہو تم اس دعویٰ کے جواب میں ؟
قتیبہ نے کہا : قاضی صاحب، جنگ تو ہوتی ہی فریب اور دھوکہ ہے،
سمرقند ایک عظیم ملک تھا،
اس کے قرب و جوار کے کمتر ملکوں نے نہ تو ہماری کسی دعوت کو مان کر اسلام قبول کیا تھا اور نہ ہی جزیہ دینے پر تیار ہوئے تھے،
بلکہ ہمارے مقابلے میں جنگ کو ترجیح دی تھی۔
سمرقند کی زمینیں تو اور بھی سر سبز و شاداب اور زور آور تھیں، ہمیں پورا یقین تھا کہ یہ لوگ بھی لڑنے کو ہی ترجیح دیں گے، ہم نے موقع سے فائدہ اُٹھایا اور سمرقند پر قبضہ کر لیا۔
🍀 قاضی نے قتیبہ کی بات کو نظر انداز کرتے ہوئے دوبارہ پوچھا :
قتیبہ میری بات کا جواب دو،
تم نے ان لوگوں کو اسلام قبول کرنے کی دعوت، جزیہ یا پھر جنگ کی خبر دی تھی ؟
قتیبہ نے کہا : نہیں قاضی صاحب، میں نے جس طرح پہلے ہی عرض کر دیا ہے کہ ہم نے موقع سے فائدہ اُٹھایا تھا۔
قاضی نے کہا : میں دیکھ رہا ہوں کہ تم اپنی غلطی کا اقرار کر رہے ہو، اس کے بعد تو عدالت کا کوئی اور کام رہ ہی نہیں جاتا۔
قتیبہ : اللہ نے اس دین کو فتح اور عظمت تو دی ہی عدل و انصاف کی وجہ سے ہے نہ کہ دھوکہ دہی اور موقع پرستی سے۔
میری عدالت یہ فیصلہ سناتی ہے کہ تمام مسلمان فوجی اور انکے عہدہ داران بمع اپنے بیوی بچوں کے، اپنی ہر قسم کی املاک، گھر اور دکانیں چھوڑ کر سمرقند کی حدوں سے باہر نکل جائیں اور سمر قند میں کوئی مسلمان باقی نہ رہنے پائے۔ اگر ادھر دوبارہ آنا بھی ہو تو بغیر کسی پیشگی اطلاع و دعوت کے اور تین دن کی سوچ و بچار کی مہلت دیئے بغیر نہ آیا جائے۔
پادری جو کچھ دیکھ اور سن رہا تھا وہ ناقابل یقین بلکہ ایک مذاق اور تمثیل نظر آ رہا تھا۔
چند لمحوں کی یہ عدالت، نہ کوئی گواہ اور نہ ہی دلیلوں کی ضرورت۔ اور تو اور قاضی بھی اپنی عدالت کو برخاست کرکے قتیبہ کے ساتھ ہی اُٹھ کر جا رہا تھا۔
اور چند گھنٹوں کے بعد ہی سمرقندیوں نے اپنے پیچھے گرد و غبار کے بادل چھوڑتے لوگوں کے قافلے دیکھے جو شہر کو چھوڑ کر کے جا رہے تھے۔
لوگ حیرت سے ایک دوسرے سے سبب پوچھ رہے تھے اور جاننے والے بتا رہے تھے کہ عدالت کے فیصلے کی تعمیل ہو رہی تھی۔
اور اُس دن جب سورج ڈوبا تو سمرقند کی ویران اور خالی گلیوں میں صرف آوارہ کتے گھوم رہے تھے اور سمرقندیوں کے گھروں سے آہ و پکار اور رونے دھونے کی آوازیں سنائی دے رہی تھیں، اُن کو ایسے لوگ چھوڑ کر جا رہے تھے جن کے اخلاق ، معاشرت، برتاؤ، معاملات اور پیار و محبت نے اُن کو اور اُن کے رہن سہن کو مہذب بنا دیا تھا۔
🍀 تاریخ گواہ ہے کہ سمرقندی یہ فراق چند گھنٹے بھی برداشت نہ کر پائے، اپنے پادری کی قیادت میں لا الٰہ الاّ اللہ محمّد الرّسول اللہ کا اقرار کرتے مسلمانوں کے لشکر کے پیچھے روانہ ہوگئے اور اُن کو واپس لے آئے۔
اور یہ سب کیوں نہ ہوتا، کہیں بھی تو ایسا نہیں ہوا تھا کہ فاتح لشکر اپنے ہی قاضی کی کہی دو باتوں پر عمل کرے اور شہر کو خالی کردے۔
دینِ رحمت نے وہاں ایسے نقوش چھوڑے کہ سمرقند ایک عرصہ تک مسلمانوں کا دارالخلافہ بنا رہا۔
Justice visible
مندرجہ بالا واقعہ شیخ علی
طنطاوی رحمۃ اللہ علیہ کی کتاب (قصص من التاریخ) کے صفحہ نمبر 411 (مصر میں 1932 میں چھپی ہوئی) سے لے کر اردو میں ترجمہ کیا گیا ہے۔
اورنگزیب عالمگیر کی مزدوری
🌹 نصیحت آموز واقعات 🌹
مُلا احمد جیون ہندوستان کے مغل بادشاہ اورنگ زیب عالمگیر کے استاد تھے۔ اورنگ زیب اپنے استاد کا بہت احترام کرتے تھے۔ اور استاد بھی اپنے شاگرد پر فخر کرتے تھے۔ جب اورنگ زیب ہندوستان کے بادشاہ بنے تو انہوں نے اپنے غلام کے ذریعے استاد کو پیغام بھیجا کہ وہ کسی دن دہلی تشریف لائیں اور خدمت کا موقع دیں۔ اتفاق سے وہ رمضان کا مہینہ تھا اور مدرسہ کے طالب علموں کو بھی چھٹیاں تھی۔ چنانچہ مُلا احمد جیون نے دہلی کا رُخ کیا۔ استاد اور شاگرد کی ملاقات عصر کی نماز کے بعد دہلی کی جامع مسجد میں ہوئی۔ استاد کو اپنے ساتھ لے کر اورنگ زیب شاہی قلعے کی طرف چل پڑے۔
رمضان کا سارا مہینہ اورنگ زیب اور استاد نے اکھٹے گزارا۔۔ عید کی نماز ادا کرنے کے بعد مُلا جیون نے واپسی کا ارادہ ظاہر کیا۔ بادشاہ نے جیب سے ایک چونّی نکال کر اپنے استاد کو پیش کی۔ استاد نے بڑی خوشی سے نذرانہ قبول کیا اور گھر کی طرف چل پڑے۔ اس کے بعد اورنگ زیب دکن کی لڑائیوں میں اتنے مصروف ہوئے کہ چودہ سال تک دہلی آنا نصیب نہ ہوا۔ جب وہ واپس آئے تو وزیر اعظم نے بتایا۔ مُلا احمد جیون ایک بہت بڑے زمیندار بن چکے ہیں۔اگر اجازت ہو تو اُن سے لگان وصول کیا جائے۔ یہ سن کر اورنگ زیب حیران رہ گئے کہ ایک غریب استاد کس طرح زمیندار بن سکتا ہے۔ انہوں نے استاد کو ایک خط لکھا اور ملنے کی خواہش ظاہر کی۔
مُلا احمد جیون پہلے کی طرح رمضان کے مہینے میں تشریف لائے۔ اورنگزیب نے بڑی عزت کے ساتھ انہیں اپنے پاس ٹھہرایا۔ مُلا احمد کا لباس، بات چیت اور طور طریقے پہلے کی طرح سادہ تھے۔ اس لیے بادشاہ کو ان سے بڑا زمیندار بننے کے بارے میں پوچھنے کا حوصلہ نہ ہوا۔ ایک دن مُلا صاحب خود کہنے لگے: آپ نے جو چونّی دے تھی وہ بڑی بابرکت تھی۔ میں نے اس سے بنولہ خرید کر کپاس کاشت کی۔ خدا نے اس میں اتنی برکت دی کہ چند سالوں میں سینکڑوں سے لاکھوں ہو گئے۔ اورنگ زیب یہ سن کر خوش ہوئے اور مُسکرانے لگے اور فرمایا: اگر اجازت ہو تو چونّی کی کہانی سناؤں۔ ملا صاحب نے کہا ضرور سنائیں۔
اورنگ زیب نے اپنے خادم کو حکم دیا کہ چاندنی چوک کے سیٹھ “اتم چند” کو فلاں تاریخ کے کھاتے کے ساتھ پیش کرو۔ سیٹھ اتم چند ایک معمولی بنیا تھا۔ اسے اورنگ زیب کے سامنے پیش کیا گیا تو وہ ڈر کے مارے کانپ رہا تھا۔ اورنگ زیب نے نرمی سے کہا: آگے آجاؤ اور بغیر کسی گھبراہٹ کے کھاتہ کھول کے خرچ کی تفصیل بیان کرو۔ سیٹھ اتم چند نے اپنا کھاتہ کھولا اور تاریخ اور خرچ کی تفصیل سنانے لگا۔ مُلا احمد جیون اور اورنگ زیب خاموشی سے سنتے رہے ایک جگہ آ کے سیٹھ رُک گیا۔ یہاں خرچ کے طور پر ایک چونّی درج تھی لیکن اس کے سامنے لینے والے کا نام نہیں تھا۔ اورنگ زیب نے نرمی سے پوچھا: ہاں بتاؤ یہ چونی کہاں گئی؟ اتم چند نے کھاتہ بند کیا اور کہنے لگا: اگر اجازت ہو تو درد بھری داستان عرض کروں؟ بادشاہ نے کہا : اجازت ہے۔
اتم چند نے کہا: اے بادشاہِ وقت! ایک رات موسلا دھاربارش ہوئی۔ میرا مکان ٹپکنے لگا۔ مکان نیا نیا بنا تھا اور تما م کھاتے کی تفصیل بھی اسی مکان میں تھی۔ میں نے بڑی کوشش کی ، لیکن چھت ٹپکتی رہی۔ میں نے باہر جھانکا تو ایک آدمی لالٹین کے نیچے کھڑا نظر آیا۔ میں نے مزدور خیال کرتے ہوئے پوچھا، اے بھائی مزدوری کرو گے؟ وہ بولا کیوں نہیں۔ وہ آدمی کام پر لگ گیا۔ اس نے تقریباً تین چار گھنٹے کام کیا، جب مکان ٹپکنا بند ہوگیا تو اس نے اندر آکر تمام سامان درست کیا۔ اتنے میں صبح کی اذان شروع ہو گئی۔ وہ کہنے لگا: سیٹھ صاحب! آپ کا کام مکمل ہو گیا مجھے اجازت دیجیے۔ میں نے اسے مزدوری دینے کی غرض سے جیب میں ہاتھ ڈالا تو ایک چونّی نکلی۔ میں نے اس سے کہا: اے بھائی! ابھی میرے پاس یہی چونّی ہے یہ لے ،اور صبح دکان پر آنا تمہیں مزدوری مل جائے گی۔ وہ کہنے لگا یہی چونّی کافی ہے، میں پھر حاضر نہیں ہوسکتا۔ میں نے اور میری بیوی نے اس کی بہت منتیں کیں۔ لیکن وہ نہ مانا اور کہنے لگا دیتے ہو تو یہ چونّی دے دو، ورنہ رہنے دو۔ میں نے مجبور ہو کر چونّی دے دی اور وہ لے کر چلا گیا۔ اور اس کے بعد سے آج تک وہ نہ مل سکا۔ آج اس بات کو پندرہ برس بیت گئے۔ میرے دل نے مجھے بہت ملامت کی کہ اسے روپیہ نہ سہی، اٹھنی دے دیتا۔ اس کے بعد اتم چند نے بادشاہ سے اجازت چاہی اور چلا گیا۔
بادشاہ نے مُلا صاحب سے کہا: یہ وہی چونّی ہے۔ کیونکہ میں اس رات بھیس بدل کر گیا تھا تا کہ رعایا کا حال معلوم کر سکوں۔ سو وہاں میں نے مزدور کے طور پر کام کیا۔ مُلا صاحب خوش ہو کر کہنے لگے۔مجھے پہلے ہی معلوم تھا کہ یہ چونّی میرے ہونہار شاگرد نے اپنی محنت سے کمائی ہوگی۔ اورنگ زیب نے کہا : ہاں واقعی‘ میں خوش ہوں کہ میری وجہ سے کسی ضرورت مند کی ضرورت پوری ہوئی یہ سب آپ کی دعاؤں نتیجہ ہے.(مولانا شبلی نعمانی کی کتاب "اورنگزیب عالمگیر پر ایک نظر" سے ماخوذ، انتخاب)